امریکی وزیر دفاع غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان میں

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس ایک غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے ہیں جس کا مقصد طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

جیمز میٹس ایک ایسے وقت میں کابل کا دورہ کر رہے ہیں جب گذشتہ سال ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے لائحہ عمل میں تبدیلی کرتے ہوئے ہزاروں مزید امریکی فوجی غیر معینہ مدت کے لیے افغانستان بھیجے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع افغانستان کے اپنے چوتھے دورے کے دوران افغان صدر اشرف غنی سمیت امریکی اور نیٹو افواج کے نئے امریکی کمانڈر جنرل سکاٹ ملر سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کے اس دورے کے وقت کو انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔

افغانستان اور بیرونی ممالک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

اسی حوالے سے جون میں ایک غیر معمولی جنگ بندی دیکھنے میں آئی جس کے بعد امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان جوالائی میں قطر میں مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد کہا جا رہا تھا کہ ممکن ہے کہ اب جنگ کا اختتام ہو جائے۔

امریکی جانب سے بھی طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔

تاہم حال ہی میں طالبان اور دولت اسلامیہ کی جانب سے سلسلہ وار حملوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد اس نیک خیالی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں ہی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان کے مختصر دورے پر اسلام آباد آئے تھے جس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ مائیک پومپیو نے زور دیا ہے کہ افغانستان میں بات چیت کے ذریعے امن لانے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جب کہ افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بات عمران خان برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی کہا کہ اس حوالے سے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کام کرے گا اور دیگر ادارے بھی ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘اس سے یہ عندیہ ملا کہ طالبان کے ساتھ براہِ راست بات کے لیے گنجائش پیدا ہوئی ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’معنی خیز بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں غیر معینہ مدت کے لیے نہیں رہنا چاہتا۔’

One Comment

Join the Discussion

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

جملہ حقوق محفوظ ہیں ... Khabar © 2018 ,, Powered by; IMRAN KHAN

%d bloggers like this: