شام کیمیائی حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکہ

شام کے لیے امریکہ کے نئے ایلچی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے بیشتر شواہد موجود ہیں کہ شام کی حکومت ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

جم جیفری کا کہنا تھا کہ باغیوں کے زیرِ اختیار آخری بڑے علاقے پر یہ متوقع حملہ پہلے سے جاری بحران کو بڑھائے گا۔

شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استمعال سے بارہا انکار کرتی رہی ہے۔

ایسے میں جب فوجی حملے کے لیے اکٹھے ہو رہی ہیں روسی طیاروں نے شمال مغربی خطے میں بمباری بھی کی ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں ترکی، روس اور ایران کے رہبماؤں کے درمیان جمعے کو ایک اجلاس ہو رہا ہے۔ ایران اور روس شامی صدر بشارالاسد کے حمایتی ہیں جبکہ ترکی بعض باغی گروپوں کے ساتھ ہے۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ باغیوں کا صفایا کرنے کی کوشش میں انسانی بحرانی پیدا ہوگا اور ترکی کو اپنی سرحدوں پر پناہ گزینوں کی دوبارہ آمد کا خدشہ ہے۔

اپنی تقرری کے بعد پہلے انٹرویو میں جم جیفری کا کہنا تھا ’مجھے پورا یقین ہے اور میں مضبوط بنیادوں پر یہ تنبیہ جاری کر رہا ہوں۔‘

’کسی بھی قسم کا حملہ ہمارے نزدیک قابلِ اعتراض ہے اور بحرن کو بڑھانے کے مترادف ہے۔ اس بات کے کئی شواہد ہیں کہ کیمیائی ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے ان شواہد کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سفارتی اقدامات کا مطالبہ

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پیر کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی کیمیائی حملے کی صورت میں واشنگٹن شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو جواب دے گا۔

شامی حکومت کی تردید کے باوجود اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں سے بچاؤ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ شامی حکومت نے اپریل سنہ 2017 میں بھی جنوبی ادلب کے ایک قصبے پر اعصاب شکن کیمیائی حملے کیے۔ جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

جم جیفری کا کہنا تھا کہ سات سال سے جاری اس خانہ جنگ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر سفارتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صد ٹرمپ نے نیا عہد کیا ہے کہ جب تک دولتِ اسلامیہ کو شکست نہیں ہوتی اور شام میں حکومت کے حامی ایرانی جنگجو واپس نہیں چلے جاتے امریکہ شام کے تنازع سے الگ نہیں ہوگا۔

جم جیفری کا کہنا تھا کہ ’شامی صدر بشارالاسد کا بحیثیت حکمران کوئی مستقبل نہیں۔ لیکن انہیں عہدے سے ہٹانا واشنگٹن کا کام نہیں ہے۔‘

چونکہ شام کے بیشتر علاقوں باغیوں کو شکست ہو چکی ہے اس لیے ادلب پر ممکنہ حملہ شام میں سات سال سے جاری خانہ جنگی کا آخری بڑا معرکہ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق ادلب میں 30000 باغی اور جہادی موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ادلب میں 29 لاکھ لوگ آباد ہیں جن میں 10 لاکھ بچے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کہ مطابق اس حملے سے کم از کم آٹھ لاکھ افراد بے گھر ہوں گے اور اس کی وجہ سے پہلے سہی امداد کے مستحق لاتعداد افراد کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہو جائے گا۔

Be the first to leave a comment. Don’t be shy.

Join the Discussion

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

جملہ حقوق محفوظ ہیں ... Khabar © 2018 ,, Powered by; IMRAN KHAN

%d bloggers like this: